ردّ مظالم: دوسروں کے مالی حقوق کی ادائیگی
ردّ مظالم پر شیعہ اثنا عشری رہنما: پہلے حق دار کی تلاش، بااجازت ادائیگی، اور صدقہ، خمس اور زکوٰۃ سے اس کا فرق۔
یہ شیعہ اثنا عشری رہنما آیت اللہ سیستانی کے دفتر کے شائع کردہ احکام کا خلاصہ ہے۔ تفصیل آپ کے اپنے مرجع اور حالات پر منحصر ہے؛ یہ ذاتی فتویٰ نہیں ہے۔
اس رہنما میں
ردّ مظالم کس مسئلے سے متعلق ہے؟
ردّ مظالم دوسرے کے غیر حل شدہ مالی حق سے متعلق ہے۔ دفترِ آیت اللہ سیستانی کے مطابق، جب اصل قرض خواہ یا وارث کی شناخت یا رسائی ممکن نہ ہو، تو یہ اس کے حق میں مستحق فقیر کو دینے کا طریقہ ہے۔ [1][2]
اس کا مقصد عام سخاوت نہیں بلکہ ایک مخصوص حق سے عہدہ برآ ہونا ہے۔ نامعلوم قرض خواہ کا ثابت شدہ قرض اور نامعلوم مالک کا مال قریب صورتیں ہیں، مگر ایک معاملہ نہیں۔ [1][2]
پہلے حق دار کو تلاش کریں
مسئلہ 929 کے مطابق، ثابت مالی حق والے پر قرض خواہ یا وارث کو پہچاننے کا معقول امکان ہو تو اسے تلاش کرنا لازم ہے۔ مسئلہ 930 محدود ممکنہ قرض خواہوں کے گروہ کو الگ طرح سے دیکھتا ہے۔ محض نامعلومی یا دشواری کسی معلوم حق کو ردّ مظالم نہیں بناتی۔ [1]
عملی مشورے کے طور پر رقم، تاریخیں، نام، آزمائے گئے رابطے اور ثبوت لکھیں۔ اس سے مرجع کے دفتر سے درست سوال آسان ہوتا ہے، مگر یہ کافی تلاش کی مقدار طے نہیں کرتا۔ [1]
نامعلوم مالک کا مال الگ مسئلہ ہے
مسائل 1454 تا 1461 اس مال کو الگ بیان کرتے ہیں جس کا مالک نامعلوم ہو۔ اگر اسے ضائع ہونے کا خطرہ نہ ہو تو عموماً اسے لینا یا قبضے میں کرنا درست نہیں۔ بلااجازت لینے کا حکم غصب اور ضمان کا ہے، مگر مالک کی رضامندی یا ترک معلوم ہو تو بات الگ ہے۔ [2]
ضائع ہونے کے خطرے میں حفاظت کے لیے اسے لیا جا سکتا ہے۔ مالک کے ملنے کی امید تک تلاش جاری رہتی ہے۔ پھر اصل مال، فروخت کی رقم یا قیمت صدقہ ہوتی ہے۔ احتیاطِ واجب کے مطابق صدقہ، فروخت، قیمت کے بدلے مال لینا اور قیمت لگانا حاکمِ شرع کے اذن کے محتاج ہیں۔ [2]
اذن اور مستحق وصول کرنے والا
اگر نامعلوم قرض خواہ غیر محدود افراد میں ہو اور اسے پانے کی امید ختم ہو جائے تو مسئلہ 930 قرض کو ردّ مظالم کے عنوان سے دینے کی ہدایت کرتا ہے۔ احتیاطِ واجب کے طور پر حاکمِ شرع یا اس کے نمائندے کا اذن درکار ہے۔ [1][2][3]
مسائل 931 تا 939 کے مطابق وصول کرنے والا مستحق فقیر مسلمان اور شیعہ اثنا عشری ہو۔ اسے اس شخص کو نہیں دیا جا سکتا جس کا نفقہ دینے والے پر واجب ہو۔ غیر فقیر مذہبی مقام یا تقریب پر خرچ کرنے سے ذمہ داری ادا نہیں ہوتی۔ تفصیل اپنے مرجع سے پوچھیں۔ [1][2][3]
نہ عام صدقہ، نہ خمس یا زکوٰۃ
عام صدقہ اختیاری عطیہ ہو سکتا ہے، جبکہ ردّ مظالم اس نامعلوم شخص کی طرف سے دیا جاتا ہے جس کا مالی حق حل نہیں ہوا۔ ضرورت مند تک ادائیگی پہنچ جانا خودبخود اس مخصوص حق کو ادا نہیں کرتا۔ [4]
خمس اور زکوٰۃ کے اپنے اسباب، اذن، مستحقین اور ضابطے ہیں۔ مسئلہ 1337 کہتا ہے کہ ردّ مظالم، خمس، زکوٰۃ، کفارہ اور ایسے اموال میں ہر عنوان کی اپنی شرعی شرائط پوری ہوں۔ رہنمائی کے بغیر ادائیگی کا عنوان نہ بدلیں۔ [4]
احتیاط سے منصوبہ بنائیں، معاملہ کھلا رکھیں
سیستانی کے احکام میں احتیاطِ واجب کے طور پر ہے کہ اگر قرض خواہ یا مالک بعد میں سامنے آئے اور اس کی طرف سے کیے گئے صدقے پر راضی نہ ہو تو ضمان باقی رہ سکتا ہے۔ اسی لیے اصل حق دار تک پہنچنے کی حقیقی کوشش پہلے ضروری ہے۔ [1][2][3]
اقدام سے پہلے حق، مالک کے نہ ملنے کی وجہ، کی گئی تلاش اور رقم طے کرنے کا طریقہ لکھیں۔ عام رہنما یا رقم منتقل کرنا شخصی ذمہ داری کے ادا ہونے کی تصدیق نہیں کرتا۔ اپنے مرجع سے جواب لیں۔ [1][2][3]
